اسمارٹ فونز اور ٹیکنالوجی کے دور میں‌ والدین کی ذمہ داری

اسمارٹ فونز اور ٹیکنالوجی کے دور میں‌ والدین کی ذمہ داری

ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جب دنیا بس ایک “کلک” کی دوری پر ہے۔ موبائل فونز اور دوسری اسمارٹ ڈیوائسز کے انٹرنیٹ سے منسلک ہوتے ہی جیسے سیکنڈوں پورا جہان آپ کے سامنے آجاتا ہے۔

تفریح اور عام معلومات کے ساتھ عام یہ ٹیکنالوجی تعلیم و تربیت میں بھی مددگار ہے، لیکن یہ بات جہاں سننے میں بھلی معلوم ہوتی ہے، وہیں والدین کے لیے ایک بڑا چیلنج بھی ہے، کیوں‌ کہ بچّے چھوٹے ہوں یا نوعمر آج کل سبھی موبائل فونز اور لیپ ٹاپ کا استعمال جانتے ہیں۔

اب جب کہ کرونا کی وبا پھیلی تو اسکول سے لے کر جامعات کی سطح تک آن لائن پڑھائی کا رجحان سامنے آیا ہے اور نوجوان نسل کو موبائل یا لیپ ٹاپ استعمال کرنے کا جیسے جواز مل گیا۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اب چند فی صد ہی لوگ ہوں گے جو اسمارٹ موبائل فونز استعمال نہ کرتے ہوں۔ یوں اس دور میں‌ والدین کے لیے اپنی اولاد کی تربیت کرنا ایک بڑا چیلنج ثابت ہورہا ہے اور بچوں‌ کی نگرانی اور اچھے برے میں‌ تمیز سکھاتے ہوئے برائیوں سے دور رکھنا ناممکن نہیں‌ تو مشکل ضرور ہوگیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں