ڈسکہ این اے 75:ضمنی انتخاب کالعدم قرار

ڈسکہ این اے 75:ضمنی انتخاب کالعدم قرار

جانب سے وکیل علی ظفر کا آج ہونے والی سماعت میں کہنا تھا کہ تاخیر سے پہنچنے کو ٹمپرنگ سمجھنا مفروضہ ہے۔ الیکشن کمیشن ووٹنگ سے روکنے پر کارروائی کرسکتا ہے۔ انکوائری ٹرائل الیکشن کمیشن نہیں الیکشن ٹربیونل کا مینڈیٹ ہے۔ ممبر الیکشن کمیشن نثار درانی نے کہا کہ کیا پریذائیڈنگ افسران کا غائب ہونا قانون کی خلاف ورزی نہیں ؟ جس پر علی ظفر نے کہا میرے مطابق پریذائیڈنگ افسران کا غائب ہونا خلاف قانون نہیں تھا، ان پریذائیڈنگ افسران نے وضاحت دے دی ہے۔

واضح رہے کہ سیالکوٹ میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 میں رواں ماہ 19 فروری کو ضمنی انتخاب کا عمل شروع ہوا تھا۔

الیکشن کے روز حلقہ این اے 75 میں شدید بے نظمی بھی دیکھنے میں آئی، جہاں مشتعل افراد کی فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق، جب کہ متعدد زخمی ہوئے۔ پولنگ اسٹیشن پر فائرنگ کے ملزم کو 21 فروری کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار ملزم کا نام حمزہ بٹ ہے، جب کہ دیگر 2 نامزد ملزمان نے ضمانت قبل از گرفتاری کرالی۔ ایس ایچ او کے مطابق دیگر نامز دونوں ملزمان مفرور ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے اس حوالے سے الزام لگایا تھا کہ مسلم لیگ ن کے امیدوار کے گارڈز نے پولنگ اسٹیشن پر فائرنگ کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں